اللہ کے ولی

₨480.00
(No reviews yet) Write a Review
SKU:
BC-003

صبح کس کے جلوئوں سے منور ہوتی ہے؟ شام کس کے پردوں سے مسخر ہوتی ہے؟ دن میں سنہری رنگت کس کی ہے؟ رات کس کی زلفوں کے صدقے مائل بہ سیاہی ہے؟ سورج کی کرن تمازت کہاں سے لاتی ہے؟ چاند کی چاندنی ٹھنڈک کہاں سے پاتی ہے؟ طوفانوں کو وحشت کہاں سے ملتی ہے؟ حباب میں نزاکت کہاں سے آتی ہے؟ مظاہر فطرت کی دلکشی کس کے رخ گلفام سے ہے؟ ذروں کی چمک کس حسین کے انعام سے ہے؟ حسینوں کے حسن میں جھلک کس کی ہے؟ نازنینوں کے چہرے پر چمک کس کی ہے؟ رومیؔ کے بانسری میں کون روتا ہے؟ خسروؔ کی دھن میں کون گاتا ہے؟ سعدیؔ کی زبان میں کون بولتا ہے؟ جامیؔ کے لہجے میں رازِ دروں کون کھولتا ہے؟ حافظؔ کے منہ میں آواز کس کی ہے؟ خیام کے تخیل میں پرواز کس کی ہے؟ میرؔ کی تغزل میں جھلک کس کی ہے؟ ذوقؔ کے ترنم میں کھنک کس کی ہے۔ فراقؔ کے ذکر میں مہک کس کی ہے؟
مست کبیرا کس کی دھن پر گاتا ہے
اس دنیا کا چرخا کون چلاتا ہے
اس حسن کا عرفان تو کرو جس کے عشق میں گردشِ کائنات ہے۔ اس حسن واحد کے ادراک کی کوشش تو کرو جس کا ظہور الگ الگ صورتوں میں ہو رہا ہے۔
چھپایا حسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نے
وہی ناز آفریں ہے جلوہ فرما نازنینوں میں
حسن و عشق لازم و ملزوم ہیں۔ جہاں جہاں حسن ہے، وہاں وہاں عشق ہے۔ یہ کائنات کارخانہ عشق ہے۔ یہاں عشق کا ظہور مختلف صورتوں میں ہوتا ہے۔ اگر قرارِ عشق دیکھنا ہو تو زمین کو دیکھو۔ اضطرارِ عشق دیکھنا ہو تو ہوا کو دیکھو۔ رفتارِ عشق دیکھنا ہو تو پانی کو دیکھو۔ سوزشِ عشق دیکھنا ہو تو آگ کو دیکھو۔ اور ان سبھوں کا مجموعہ دیکھنا ہو تو انسان کو دیکھو۔ انسانی وجود کا ظہور اگر بیداریٔ عشق ہے تو فنا سرمستی عشق۔
جمال عشق و مستی نے نوازی
جلال عشق و مستی بے نیازی
کمال عشق و مستی ظرفِ حیدر
زوالِ عشق و مستی حرفِ رازی
وہ ایسا معشوق ہے جسے اپنے عاشقوں سے پیار ہے۔ اسی لئے وہ اپنی ہستی کا پرتو اپنے چاہنے والوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اسے اہل کرم پسند ہیں کیونکہ وہ خود کریم ہے۔ اسے رحم کرنے والے محبوب ہیں کیونکہ وہ خود رحیم ہے۔ اسے احسان کرنے والے اچھے لگتے ہیں کیونکہ وہ خود محسن ہے۔ اسے علم والے پسند ہیں کیونکہ وہ خود علیم ہے۔ اسے حسین محبوب ہیں کیونکہ وہ خود جمیل ہے۔ اس کا مسکن عاشقوں کا دل ہے کیونکہ یہ جمالیات کا مرکز ہے۔
حسنِ ازل نے اپنی صراحی سے شرابِ عشق جن کے ساغروں میں انڈیلی وہ بیخود و سرشار ہوئے، مست مئے اخیار ہوئے، صاحب دلِ بے قرار ہوئے۔ کوئی رومیؔ کی شکل میں امامِ عاشقاں ہوا تو کوئی قشیریؔ کی صورت سردارِ کاروانِ عرفاں ہوا۔ کوئی غزالیؔ کے روپ میں صاحب دستار ہوا تو کوئی علی ہجویری کی صورت داتا ئے گنج بے شمار ہوا۔ کوئی نظام الدین کے پیکر میں محبوبِ کردگار ہوا تو کوئی شرف الدین کے سراپا میں مخدومِ بہار ہوا۔ کاروانِ محبت کے انہیں شہسواروں کو دنیا ’صوفی‘ کے لقب سے یاد کرتی ہے اور عشق و عرفان کی اسی تحریک کو ’تصوف‘ کہا جاتا ہے۔
تصوف ایک راستہ ہے جو بہت سی پرخار وادیوں سے ہو کر گذرتا ہے۔ راہی کے قدم تھک جاتے ہیں، پیر لہو لہان ہو جاتے ہیں، جسم زخموں سے چور ہو جاتا ہے، آنکھوں سے چشمۂ خوں جاری ہو جاتا ہے۔ پھر کہیں منزل تک رسائی ہوتی ہے۔ یہاں کا دستور نرالا ہے۔ جو جسم و جاں کو بچا لے گیا و ناکام و نامراد گیا اور جس نے اپنے وجود کو گنوا دیا وہی کامیاب و کامران ٹھہرا۔ منزل نے اس کے قدم چومے، مراد نے اس کا استقبال کیا، سرخروئی کی دستار اس کے سر باندھی گئی۔ اب محبوب و محب میں دوئی نہیں رہتی، چاہت انہیں ایک کر دیتی ہے۔
ہم تم سامی ایک ہیں کہن سنن کو دوے
من کو من سے تو لئے دو من کبھی نہ ہوے
حدیث قدسی ہے—
’’اے میرے بندے تیرے حق کی قسم میں تجھے پیار کرتا ہوں، تجھے میرے حق کی قسم کہ تو بھی مجھ سے محبت کر‘‘۔
یحییٰ بن معاذ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ’’محبت کا ایک ذرہ بغیر محبت کی ستر سالہ عبارت سے بہتر ہے‘‘۔
(روضۃ المحبین و نزہۃ المشتاقین، ص ۴۷۰)
سالک جب منزل تک پہنچ کر عارف ہو جاتا ہے تو رحمتیں اسے ڈھک لیتی ہیں، قدسیان معصوم اس کے مقام و مرتبے پر رشک کرتے ہیں۔ وہ بندہ اگرچہ بندہ ہوتا ہے مگر خدائی صفات کا حامل ہو جاتا ہے۔ وہ دنیا سے بے خوف ہو جاتا ہے اور دنیا اس سے ڈرنے لگتی ہے۔ وہ خدا سے محبت کرتا ہے اور مخلوق اس سے محبت کرنے لگتی ہے۔ عالم قدس اس سے محبت کرتا ہے اور عالم فانی میں بھی اس کی محبت عام کر دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں، جنگل میں درندے، پیڑوں پر پرندے اور تمام ذی روح و غیر ذی روح تک اس کی محبت پھیلا دی جاتی ہے۔ وہ صرف خالق سے محبت کرتا ہے اور مخلوق اس سے محبت کرتی ہے۔ یہ مقامِ محبوبیت ہے۔ بندہ محبوب حقیقی کا تابع ہو جاتا ہے اور دنیا اس کی تابع ہو جاتی ہے۔
سراپا حسن بن جاتا ہے جس کے حسن کا عاشق
بھلا اے دل حسیں ایسا بھی ہے کوئی حسینوں میں
عارف کے متعلق صوفیہ کے مختلف اقوال ہیں۔
حضرت جنید بغدادی نے فرمایا:
’’آدمی اس وقت تک عارف نہیں ہو سکتا جب تک وہ زمین کی طرح نہ ہو، کیونکہ ہر نیک و بد اس پر چلتا ہے اور جب تک وہ بارش کی طرح نہ ہو کہ وہ ہر محبوب و غیر محبوب کو سیراب کرتی ہے‘‘۔
حضرت ابو سلیمان دارانی نے فرمایا:
’’جو علوم عارف کے لئے اس کے بستر پر کھولے جاتے ہیں وہ مصلیٰ پر کھڑے ہونے سے بھی نہیں کھلتے‘‘۔
ایک بزرگ فرماتے ہیں:
’’حقیقی عارف وہ شخص ہے کہ اگر اس کو سلیمان کی بادشاہت بھی دے دی جائے پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ سے ایک پلک جھپکنے کے برابر غافل نہ ہو۔
ایک صوفی کا قول ہے:
’’عارف شخص اللہ سے مانوس ہوتا ہے تو اللہ اسے لوگوں سے اجنبی بنا دیتا ہے۔ وہ اللہ کا محتاج ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے مخلوق سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ وہ اللہ کے لئے ذلیل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کی نگاہ میں معزز کر دیتا ہے‘‘۔ (ایضاً، ص ۴۶۹)
کسی میں جو کوئی فنا ہو گیا
نہ کچھ پوچھ آسیؔ وہ کیا ہو گیا
فنا کا مطلب خاتمہ ہے مگر تصوف میں فنا، بقا کی ابتدا کا نام ہے۔ جس طرح ایک دانا مٹی کی تہہ میں سڑ کر خود کو ختم کر لیتا ہے مگر اسی کے ساتھ اس کا دوسری شکل میں ظہور ہوتا ہے یعنی وہ پہلے پودا اور پھر تناور درخت بنتا ہے۔ اس کی زندگی صدیوں پر محیط ہو جاتی ہے۔ اسی طرح فنا دراصل بقا کا عنوان ہے۔ یہاں عبد کا خاتمہ ہوتا ہے اور عبدہٗ کی ابتدا ہوتی ہے۔ عبد فنا ہونے والی چیز ہے مگر عبدہٗ کو بقائے دوام ہے کیونکہ یہ فنا محض فنا نہیں بلکہ فنا فی اللہ ہے۔ اللہ باقی ہے لہٰذا وہ بندہ بھی حیات جاوداں کا حقدار ہو جاتا ہے جو خود کو اس کی ذات میں فنا کر دیتا ہے۔
تصوف محبت سے عبارت ہے۔ محبت ایسی شے نہیں جسے ختم کر دیا جائے۔ یہی سبب ہے کہ لاکھ مخالفتوں کے باوجود اسے عالمی سطح پر مقبولیت حاصل ہوئی۔ صدیاں گذریں اور بعدکے دور میں ایک طبقہ اس کی مخالفت میں بھی آیا مگر اس کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا۔ یہ انسانی خمیر کی آواز ہے، یہ انسانی فطرت کا تقاضہ ہے۔ لہٰذا اہل دل ہر دور میں اس کی طرف کھنچے چلے آئے۔ یہاں روحانی سکون حاصل ہوا اور بندوں کو محسوس ہوا کہ وہ اپنے خالق کے سائے میں آ گئے ہوں۔
انسان کو ہر دور میں اپنے خالق کی تلاش تھی اور وہ اسی تلاش میں سکون ڈھونڈتا تھا اور اسے یہیں اطمینان قلب حاصل بھی ہوا۔ قرآن میں فرمایا گیا ’’اللہ کے ذکر میں اطمینان قلب ہے‘‘۔ آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو تصوف کے سائے میں آ کر اپنے خالق کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے یاد کر کے سکون قلب پاتے ہیں۔ مگر ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جسے دل کا سکون چاہئے اور اسے معلوم نہیں کہ یہ سکون کہاں مل سکتا ہے۔ عہد حاضر کی ایک بڑی بیماری ذہنی الجھن ہے اور اس میں سب سے زیادہ وہ طبقہ مبتلا ہے جس کے پاس جدید دنیا کی تمام سہولیات موجود ہیں۔ دولت اتنی ہے کہ اس کی گنتی مشکل ہے۔ خادموں کا ازدہام ہے جو ہر لمحہ اشارۂ ابرو کا منتظر ہے۔ سفر کے لئے کار سے لے کر ہیلی کاپٹر تک موجود ہیں۔ غرض کہ عیش و عشرت کا کوئی ایسا سامان نہیں جو انہیں دستیاب نہ ہو، پھر بھی سکونِ قلب حاصل نہیں۔ وہ نیند کے لئے خواب آور دوائیں استعمال کر رہے ہیں۔ سکون کے لئے شراب اور منشیات کا سہارا لے رہے ہیں۔ وہ اطمینانِ قلب کی تلاش میں نائٹ کلبوں اور کیسینوز کا چکر کاٹ رہے ہیں مگر جب تھک ہار جاتے ہیں تو خود اپنے ہاتھ سے اپنی جان لے لیتے ہیں۔ جدید طرز زندگی کے حامل افراد بالخصوص مغربی ممالک میں یہ چلن عام ہے۔ آج تصوف ایسے افراد کے لئے تیر بہ ہدف علاج ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ انہیں اس کے سائے میں لایا جائے۔ اسی طرح تشدد، جرائم، دہشت گردی، خونریزی، قتل و غارت گری، چوری، ڈکیتی، رشوت ستانی، بدعنوانی، گھپلہ بازی اور اس جیسی دیگر برائیوں کو سماج سے مٹا کر ایک صالح سماج کی بنیاد، تصوف کے تعاون سے ڈالی جا سکتی ہے۔ سماج کی اصلاح میں تصوف کا جتنا اہم رول ماضی میں رہا ہے حال میں یہ اس سے بڑھ کر کام کر سکتا ہے۔ موجودہ معاشرے میں اس کی زیادہ ضرورت ہے۔
کتاب ’’انوارِ تصوف‘‘ تصوف کے اسی پیغام کو عوام الناس تک پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔ اس کتاب میں آٹھ صوفیہ کی حیات و خدمات کا ایک ہلکا سا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ان کے افکار و خیالات کا ایک عکس ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ سبھی آٹھ صوفیہ اپنے عہد کی نمایاں روحانی و علمی شخصیات ہیں۔ حضرات ابوالقاسم عبدالکریم قشیری، امام محمد غزالی، مولانا جلال الدین رومی، داتا گنج بخش شیخ علی ہجویری، شیخ عبد القادر جیلانی، محبوب الٰہی نظام الدین اولیاء، مجددالف ثانی شیخ احمد سرہندی اور مخدوم شرف الدین منیری علیہم الرحمہ یہ سبھی صوفی کے ساتھ ساتھ زبردست عالم اور مصلح تھے۔ انہوں نے سماج پر نہ مٹنے والے اثرات مرتب کئے۔ معاشرے کی اصلاح کی، مدرس کے طور پر طلباء کو زیور علم سے آراستہ کیا اور اپنی تصنیفات، مکتوبات اور ملفوظات کے ذریعے آج بھی دنیا کو فیض پہنچا رہے ہیں۔ ان میں مولانا جلال الدین رومی پر مغرب میں بھی کام ہو رہا ہے اور ان کی شخصیت کو پہچاننے کی کوشش جاری ہے۔ ان کی کتابوں کے تراجم ہو چکے ہیں اور انہیں پڑھ کر اہل مغرب سر دھن رہے ہیں۔ رومیؔ کی عالمی سطح پر مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اب مادہ پرست عقلوں نے کسب زر کے طریقے بھی تلاش کر لئے ہیں۔ ہالی ووڈ کے موسیقاروں نے ان کلام کے ترجموں پر مشتمل سی ڈی بازار میں پیش کی تھی جو خوب فروخت ہوئی۔ اس قسم کی ویڈیو اور آڈیو سیڈیاں اب عام ہو چکی ہیں۔ پرفارمنگ آرٹسٹوں نے رقص کی ٹولیاں بنا لی ہیں جن کی بازار میں خوب مانگ ہے۔ یہ روحانی کلام کے ساتھ رقص کرتی ہیں۔ اسے ’صوفی ڈانس‘ کہا جاتا ہے۔ عالمی ادارے ’یونیسکو‘ نے ۲۰۰۷ء کو رومی کا بین الاقوامی سال قرار دیا تھا۔ اس کے تحت بھی رومی پر بہت سے پروگرام منعقد ہوئے اور بہت سی کتابیں شائع ہوئیں۔ یہ سلسلہ ساری دنیا میں چلا۔
مغرب آٹھ صدیاں بیتنے کے بعد رومیؔ سے آگاہ ہوا ہے۔ اسے آج بھی یہ نہیں معلوم کہ ہمارے علمی خزانے میں سعدیؔ، حافظؔ، خیامؔ، جامیؔ، عطارؔ، خسروؔ کے ساتھ ساتھ غزالی، قشیری اور بہاری جیسے در نایاب بھی ہیں۔ ہماری روحانی رہنمائی کے لئے حسن بصری، ذوالنون مصری، سری سقطی، جنید بغدادی، معین الدین چشتی، قطب الدین بختیار کاکی، نظام الدین اولیاء، بندہ نواز گیسو دراز کے ساتھ ساتھ شاہ عبدالحق، مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ جیسی شخصیات بھی موجود ہیں۔ کاش مغرب اور دنیا اس حقیقت سے آگاہ ہو پاتی تو ضرور ان سے اکتساب فیض کی کوشش کرتی۔ ان بزرگوں کے علمی اور روحانی خزانے کسی ایک طبقے کی میراث نہیں۔ پوری عالم انسانیت کا ان پر حق ہے۔
کتاب ’’اللہ کے ولی‘‘ کے ذریعے ہم نے چند صوفیہ کی شخصیت، خدمات اور افکار کی جھلک پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ وہ فرض کفایہ ہے جو انسان ہونے کے ناطے ہم پر عائد ہوتا ہے۔ صوفیہ کے علمی خزانے میں وہ فکر و فن کے جواہرات ہیں جن کی قیمت پوری دنیا نہیں بن سکتی، مگر افسوس یہ درّ بے بہا کتابوں کے اوراق میں دفن ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہیں نکالنے اور زندگی میں برتنے کی کوشش نہیں ہوتی۔ اس کتاب میں صوفیہ کے ایسے افکار کو چن چن کر پیش کیا گیا ہے جن سے انسانی زندگی میں تبدیلی آتی ہے اور دنیا و آخرت پر اس کے اثرات پڑتے ہیں۔ انسان اپنا مقصد وجود سمجھتا ہے اور خدا رخی زندگی کے لئے تیار ہوتا ہے۔ ان صوفیانہ افکار کو اگر زندگی میں اپنا لیا جائے تو بندوں کو اپنے خالق کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور سکونِ قلب ملتا ہے۔
کھل جائیں کیا مزے ہیں تمنائے شوق میں
دو چار دن جو میری تمنا کرے کوئی
’’اللہ کے ولی‘‘ میں صوفیہ کے افکار کو انہیں کی کتابوں، ملفوظات اور مکتوبات سے لیا گیا ہے۔ کتابوں کے حوالے موجود ہیں۔ زیادہ تفصیل کے لئے اصل ماخذ کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کی ترتیب، اشاعت اور تقسیم میں جن لوگوں نے بھی تعاون کیا وہ قابل تشکر ہیں۔ کتاب کی اشاعت اور اسے دیدہ زیب بنا کر عوام تک پہنچانے کا دُشوار کام ادارہ ’’بک کارنر‘‘ کے رُوح رواں جناب گگن شاہد اور امرشاہد نے بہت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ اس کے لیے وہ شکریے کے مستحق ہیں۔
اب کتاب قارئین کے ہاتھ میں ہے جن کے تاثر کا انتظار رہے گا۔

غوث سیوانی