Mudassir Malik

مدثر حسین ملک نے لکھنے کاباقائدہ آغاز 2003 میں کیا اور ان کے افسانے روزنامہ جنگ کی زینت بنتے رہے ہیں۔ ان کی پیدائش کوئٹہ میں ہوئی اور وہیں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اقوام متحدہ کے ڈیپارٹمنٹ ہیومن ریسورس میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور اس وقت اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ان کے پسندیدہ ادیبوں میں اشفاق احمد، بانو قدسیہ، قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، لیو ٹاسٹائی اور خلیل جبران ہیں۔ حال ہی میں ان کے افسانوں کا مجموئہ "تیسرا کنارا" کے نام سے شائع ہوا ہے جس کے بنیادی موضوعات میں تصوف۔ عشق حقیقی۔ انسانی نفسیات اور انسانی فطرت پر خواہشات کا اثر شامل ہیں۔ ۔مدثر افسانے کے علاوہ سکرپٹ رائٹنگ میں مہارت رکھتے ہیں اور ان کا لکھا ہوا ڈرامہ 'انڈیا پاکستان انٹر-یونی ورسٹیز ڈراما فیسٹول' میں کھیلا جا چکا ہے۔ لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ مدثر ایک اچھے کوہ پیماء بھی ہیں اور اگلے ٥ سال میں خود کو  ایک اچھے اور پڑھے جانے والے ادیب کے طور پر دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ ۔